فرانس کے سفیر کی مرجع عالی قدر دام ظلہ سے ملاقات

فرانس کے سفیر کی مرجع عالی قدر دام ظلہ سے ملاقات

20/11/2017




بہت ہی افسوس ناک بات ہے کہ وہ ممالک جو امن و سلامتی کے خواہاں ہیں وہ اس قوم کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم دیکھ کراپنے فرائض سے منہ موڑ رہے ہیں بیشک عراق جس نے ملایین زائرین کو امن فراہم کیا بے اس میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اہنی سرزمین کو امن کا گہوارہ بنائے تاکہ اقتصادی حوالے سے بھی عراق مضبوط ہو ہمارا پہلا اور آخری انتخاب سلامتی ہےمرجع عالی قدر دام ظلہ نے اپنے مرکزی دفتر میں عراق میں آنے والے جدید سفیر بورنو اوبییر اور انکے ہمراہ وفد سے ملاقات کی مرجع عالی قدر دام ظلہ نے کہا افسوس ہے کہ دنیا کی بڑٰی طاقتیں جو کہ امن و سلامتی کے مرکز شمار ہوتی ہیں وہ کچھ ممالک سے رخ موڑے ہوئے ہیں اور بالخصوص یمنی عوام کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کرتا ہمیں امید ہے کہ  دنیا کی مظلوم قوموں کے حق میں آواز بلند کرنے سے منہ نہیں موڑیں گے اس کے بعد مرجع عالی قدر دام ظلہ نے ان تمام جھد اور کوششوں کوسراہا جو ان دونوں ممالک عراق اور فرانس  کی ترقی کا سبب بنیں تاکہ اقتصاد اور ٹیکنالوجی میں ترقی ممکن ہو سکے اس کے   ساتھ آپ نے فرمایا کہ عراق ملایین زائرین کوامن فراہم کرسکتا ہے تواس میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو امن کا گہوارہ بنائے تا کہ اس ملک کا اقتصاد مضبوط ہو آپ نے امام علی علیہ السلام کے اس فرمان کو پڑھا کہ جو آپ نے ایک والی کو فرمایا کہ اے مالک لوگوں کی دوقسمیں ہیں یا تو وہ دین میں آپکا بھائی ہے یا مخلوق میں آپ جیسا ہے مرجع عالی قدر دام ظلہ نے فرمایا کہ یقین جانیں اس قول پر اگر عمل پیرا ہوا جائیں تو پوری دنیا میں امن بحال ہو سکتا ہے بیشک حقیقی اسلام جنگ سے روکتا ہے اور انسانی جان و مال کی حفاظت و احترام کا حکم دیتا ہے تمام افراد قابل احترام ہیں اور سرزمین عراق سب کے لیے ہے اور ہمارا پہلا اور آخری انتخاب وامن و سلامتی ہے جناب اوبیر نے  نجف اشرف کی سرزمین پر ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہوئےعراق میں سفارتی کاموں کو بیان کیا اور دونوں ممالک کی مصلحت کو بیان کیا اور اچھی ملاقات اور انمول افکار سے مستفید ہونے پر شکریہ بھی ادا کیا
بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں