ضروری ہے کہ ہم سب پر وحدت، یکجہتی اور وطن پرستی حاکم ہو اور

ضروری ہے کہ ہم سب پر وحدت، یکجہتی اور وطن پرستی حاکم ہو اور

6/3/2018




اختلافی عناصر کو ہم اپنی قوت  کے عناصر میں تبدیل کریں نہ کہ خود کو کمزور کرنے میں جس طرح میں عراق کے وسط اور جنوب کے باشندوں کیلئے فکرمند رہتا ہوں اسی طرح شمال کے اپنے بیٹوں کی ہمیں فکر ہے۔
مرجع مسلمین و جہانِ تشیّع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین النجفی (دام ظلہ الوارف) نے اپنے مرکزی دفتر نجف اشرف میں کردستان عراق سے اسٹریجٹک ریسرچ سنٹر اور بعض اکابر سیاسیوں کے وفد سے ملاقات میں زور دیتے ہوئے  فرمایا کہ ضروری ہے کہ  بلا استثناء سب پر قانون کی حکومت ہو  اور اختلافی عناصر کو پورے عراقی معاشرے کے حق میں تبدیل کریں تاکہ یہی اختلافی عناصر طاقت میں تبدیل ہوں نہ کہ کمزوری آپسی کھینچ تان اور افتراق میں۔
مرجع عالی قدر دام ظلہ نے اسی ملاقات میں وحدت کے عناصر کی بنیاد وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے کے ضوء میں دین پر ایمان اور استادوں، تربیت کرنے والوں اور تعلیمی عناصر کے ذریعہ اپنی اولادوں کے دلوں میں عراق کی محبت کو کاشت کرنے کے ذریعہ قائم کرنے کی دعوت دی اور وہ عراق کی تاریخ اور ثقافت پر فخر کریں انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ان دونوں عناصر کا قیام سیاست دانوں اور ذمہ داروں کے ذاتی اور نفسی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں ہے اسی منطلق سے مزید انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم (ص) کے حکم کے مطابق جسطرح میں عراق کے وسط اور جنوب کے باشندوں کیلئے فکرمند رہتا ہوں اسی طرح شمال کے اپنے بیٹوں کی ہمیں فکر ہے ۔  
اسی ضمن میں مرجع عالی قدر دام ظلہ کے ترجمان اور مرکزی دفتر کے مدیر حجۃ الاسلام الشیخ علی النجفی دام عزہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے پاس وحدت اور قومی یکجہتی کی حفاظت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے  اور ضروری ہے کہ آپسی بات چیت عراق کے شہریوں کے مابین بغیر کسی فرق کے شہریوں کے حق میں ہونی  چاہیئے  انہوں نے مزید فرمایا کہ ہم ایک اصول بنا لیں کہ  سارے عراقی شہری ایک جیسے ہیں اور حکومت کی نظر میں تمام عراقی حقوق میں برابر ہیں اسی طرح تمام عراقی عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں برابر ہیں یعنی شہریوں کے درمیان کسی بھی طرح کا کوئی فرق اور تمیز نہیں کی جانی چاہیئے۔
مہمان وفد نے اپنی جانب سے نجف میں اپنی موجودگی پر سکون کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ  یہ ہمارے مابین تاریخی تعلقات کی توسیع ہے اور ہم سب کی منزل ایک ہی ہے۔
مزید مہمان وفد نے مرجعیت دینیہ کا انکے ان مواقف پر شکریہ ادا کیا جسکے نتیجے   میں عراقیوں کے خون، وحدت اور قومی یکجہتی کی حفاظت ہوئی جبکہ تاریخ بشریت کے سب سے وحشت ناک حملوں کا داعش کی صورت عراقی عوام نے سامنا کیا ہے۔


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں