عراقی ماؤں نے مومن جوانوں کی ایک عظیم مثال پیش کی ہے اور مقامات مقدسہ کے دفاع کی خاطر گرانقدر قربانیاں پیش کی ہیں

عراقی ماؤں نے مومن جوانوں کی ایک عظیم مثال پیش کی ہے اور مقامات مقدسہ کے دفاع کی خاطر گرانقدر قربانیاں پیش کی ہیں

29/3/2018




مرجع مسلمین و جہانِ تشیّع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین النجفی (دام ظلہ الوارف) نے اپنے مرکزی دفتر نجف اشرف میں حشد شعبی کے شہداء کے خانوادوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دہشت گرد تنظیموں سے مقامات مقدسہ اور عتبات عالیہ کے دفاع میں نبرد آزما ہوتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء قرآن مجید کی اس آیت  (إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ) بیشک جن لوگوں نے  یہ کہا کہ صرف اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر ثابت قدم رہے (جمے رہے) ان پر فرشتے حامل بشارت بنکر نازل ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں موت اور اسکے بعد پیش آنے والے حالات سے نہ ڈریں اور دنیا و اسکی نعمتوں کے ہاتھ سے چلے جانے پر غمزدہ نہ ہوں  اور مزید فرماتے ہیں تمہیں اس جنت کی خوشخبری دیتے ہیں جسکا تمہیں وعدہ دیا گیا تھا، میں شامل ہیں۔
مرجع عالی قدر دام ظلہ نے شہداء  سے اسطرح خطاب کیا اللہ، رسول ؐ، اہل بیت ؑ اور  دنیا کے تمام حوزوں کی اصل (ماں) حوزہ علمیہ نجف اشرف کے مددگاروں آپ پر سلام ہو۔
مرجع عالی قدر دام ظلہ نے تاکید فرمائی کہ  شہداء کی ماؤں کے پاک سر بروز حشر فخر سے بلند ہونگے اور جناب فاطمہ زہراء علیہا السلام انکی شفاعت کیلئے تیار ہونگی کیونکہ انکی اولادوں نےحضرت علی ؑ اور انکی ائمہ ؑ اولادوں کی مقدس قبروں کی اپنے سینوں کو پیش کرکے حفاظت کی ہے مزید انہوں نے فرمایا کہ عراقی ماؤں نے مومن جوانوں کی ایک عظیم مثال پیش کی ہے  اور مقامات مقدسہ کے دفاع، دین و وطن کی حفاظت اور اسلام اور عراق کے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کی خاطر گرانقدر قربانیاں پیش کی ہیں۔

بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں