ہمارے لئے ضروری ہے کہ واجب شرعی ادا کرتے ہوئے شہیدوں کے یتیموں اور زخمیوں کے حقوق کی ادائیگی کریں اور اپنے ملک میں ہر طرح کے کرپشن کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں۔

ہمارے لئے ضروری ہے کہ واجب شرعی ادا کرتے ہوئے شہیدوں کے یتیموں اور زخمیوں کے حقوق کی ادائیگی کریں اور اپنے ملک میں ہر طرح کے کرپشن کے خاتمے کیلئے جدوجہد کریں۔

10/6/2018




مرجع مسلمین و جہان تشیّع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین النجفی دام ظلہ الوارف کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی صاحب نے صوبہ ذی قار میں مؤمنین سے ملاقاتوں میں مرجع عالی قدر دام ظلہ کی دعائیں اور انکا پیغام ان تک پہنچایا اور تاکید فرمائی کہ ماہ مبارک رمضان میں منعقد ہونے والی مجالس وعظ و ارشاد میں ضرور شرکت کریں ساتھ ساتھ عوام میں وطن پرستی، آپسی اتحاد و اتفاق کی فضا کو عام کریں۔
مزید انہوں نے بیان فرمایا کہ ہر عراقی کا نقطئہ نظر یہ ہونا چاہئے کہ اسکے پاس جتنی بھی طاقت و قوت ہے وہ اسے اپنے ملک کی حفاظت کیلئے صرف کرے اسلئے کہ یہی  ہمارے شہیدوں اور میدان جہاد میں زخمی  ہونے والے ہمارے  بہادروں کا راستہ ہے اور ایسا کرکے ہم انکے تئیں اپنی وفاداری  اور غیرت و حمیت کا اظہار کرتے ہیں اسلئے کہ انہوں نے عراق کے لئے سب سے قیمتی چیز جو انکے پاس تھی  اسے قربان کیا ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی صاحب نے اپنے اسی دورے کے ضمن میں علاقئہ رفاعی  کے مؤمنین ، معاشرے کے معزز افراد اور قبیلوں کے سربراہان سے ملاقاتوں میں تاکید فرمائی  کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد ہمارے معزز شہیدوں کے یتیموں کی دیکھ بھال اور انکی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذمہ دار ہے اسلئے  کہ وہ خدا، اہلبیت علیہم السلام اورخصوصا امام زمانہ عج کی امانت ہیں اور واضح ہونا چاہئے کہ ہم انکی جو بھی خدمت کرتے ہیں وہ انکے اوپر ہماری جانب سے کوئی احسان نہیں ہے بلکہ ہمارا شرعی، اخلاقی اور مذہبی فریضہ ہے وہ ہمارے مرہون منت نہیں ہیں بلکہ ہم انکے مرہون منت ہیں۔
موصوف نے مزید بیان کیا کہ ہم ماہ مبارک رمضان کو غنیمت جانتے ہوئے ہر قسم کے کرپشن کی مخالفت اپنا شعار بنا لیں اور ہم میں سے ہر شخص اپنے موقع و محل کے حساب سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسے ختم کرنے کی جد و جہد کرے۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی صاحب نے جوانوں کی حقیقی اسلام کی روشنی میں صحیح  تربیت کو لازمی قرار دیا تاکہ وہ اپنے وطن پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دین اور اپنے آباء و اجداد کے ذریعہ میراث میں ملے  ثقافتی اقدار کا حامی بن سکے اور اس طرح سے ہم ان میں پسماندگی کے احساس کو ختم کر سکتے ہیں الحمد للہ عراق  اس وقت تک مضبوط ہے اور رہیگا جب تک اپنی ثقافت اور نجف اشرف سے متمسک ہے۔


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں