حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ کی قائد اعظم حضرت آیۃ اللہ العظمی ٰ سید روح اللہ خمینی قدس سرہ کی برسی میں شرکت اور حاضرین سے خطاب

حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ کی قائد اعظم حضرت آیۃ اللہ العظمی ٰ سید روح اللہ خمینی قدس سرہ کی برسی میں شرکت اور حاضرین سے خطاب

12/6/2018




قائد اعظم ، بانی و مؤسس ِجمہوریہ اسلامی ایران حضرت آیۃ اللہ العظمی ٰ سید روح اللہ خمینی قدس سرہ کے انقلاب کی کامیابی  ایک تاریخی فتح تھی اور اس فتح نے پوری امت مسلمہ کو یہ احساس دلایا کہ استکبار عالمی اور سرکشوں سے اپنی کھوئی ہوئی عزت و کرامت  کو واپس لیا جا سکتا ہے۔

مرجع مسلمین و جہان تشیّع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین النجفی دام ظلہ الوارف کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی صاحب نے مؤسسۃ الغری نجف اشرف کی جانب سے منعقدہ برسی سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم، بانی و مؤسس ِجمہوریہ اسلامی ایران حضرت آیۃ اللہ العظمی ٰ سید روح اللہ خمینی قدس سرہ کے مواقف اور انکے کردار کو بیان کیا کہ جسے انہوں نے مظلوموں کی مدداور سرکشوں کو سبق سکھانے کیلئے اپنایا تھا  انہوں نے فرمایا کہ انکے انقلاب کی کامیابی ایک تاریخی فتح تھی اور اس فتح نے  پوری امت مسلمہ کو یہ احساس دلایا کہ استکبار عالمی اور سرکشوں سے اپنی کھوئی ہوئی عزت و کرامت کو واپس لیا جا سکتا ہے۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی صاحب نے ان کاوشوں کو بھی بیان کیا کہ جس کے ذریعہ انہوں نے امت مسلمہ میں بہتری لانے کی کوششیں کی۔   
 بیان کا  اردو ترجمہ  
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ
الحمد لله الذي أنعم وأبلى ومنَّ علينا بدينه المجتبى والصلاة والسلام على سيد الكونين رحمة للعالمين محمد بن عبد الله واله الغر الميامين واللعنة الدائمة على أعدائهم أجمعين إلى يوم الدين.
قال الله سبحانه: (وَالَّذِينَ صَبَرُواْ ابْتِغَاء وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرّاً وَعَلاَنِيَةً وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُوْلَئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ) صَدَقَ اللّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.
اور جنہوں نے مرضی خدا حاصل کرنے کے لئے صبر کیا ہے اور نماز قائم کی ہے اور ہمارے  دیئے ہوئے رزق میں سے خفیہ و علانیہ طور پر محتاجوں کی مدد کیا ہے اور جو نیکی کے ذریعہ برائی کو دفع کرتے رہتے ہیں آخرت کا گھر ان ہی کے لئے ہے۔
دینی اور اخلاقی تقاضہ ہے کہ ہم اسلام کے  ان بہادروں کی یاد کو تازہ رکھیں کہ جنہوں نے اپنی کوششوں اور قربانیوں سے ایک حَسین تاریخ رقم کی اور اسی راستے پر چلتے ہوئے منزل کمال کے طلبگار استفادہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کوششوں سے ایک ایسے بلند مقام کو حاصل کیا کہ جس میں عطف و رحمت الٰہی شامل حال ہو نے کے ساتھ ساتھ جنت میں خدا کے ولیوں کے جوار کے مستحق قرار پائے۔
 انکی یاد باقی رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے وسیلے سے تقرب الٰہی کو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انکے ممکن حقوق کی ادائیگی ہو سکے تاکہ ہر وہ شخص کہ جو انکے بتائے ہوئے راستے پر چل کر فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے مستفید ہو سکے۔
انہیں بہادروں میں سے ایک ہمارے جلیل القدر، قائد اعظم، جمہوریہ اسلامی ایران کے بانی و مؤسس حضرت آیۃ اللہ العظمی ٰ سید روح اللہ خمینی صاحب تھے (پروردگار انکے درجات کو مزید بلند کرے اور انہیں جنت میں انکے جد حضرت رسول خدا ؐ کا دائمی جوار نصیب کرے)
ہماری اس جلیل القدر شخصیت نے حق کو ثابت کرنے کیلئے ان مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کیا کہ جنہیں برداشت کرنا عادتا مشکل ہوتا ہے۔  انکے پختہ عزم و حوصلے، لگاؤ کی مثال بہت کم ملتی ہے انہوں نے اپنے زمانے کے سرکش اور ڈکٹیٹر کا ثبات قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا  گرفتاری، ملک بدری یہاں تک کہ اپنے چاہنے اور مددگاروں کے قتل، اسیری اور ظلم و ستم کا ڈٹ کر سامنا کیا اسلئے کہ وہ مضبوط دل اور اپنے ارادے میں پختگی کے حامل تھے جسکے سامنے دنیا کے مصائب و آلام  کی کوئی حیثیت نہیں تھی اسلئے کہ انکا ہدف خدا کی مرضی تھی اور وہ کبھی دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔
علوم و معرفت کے ابتدائی مراحل سے ہی جو عظیم کام وہ کر گئے اسکی نقشہ کشی قران مجید کی اس آیت کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع کردی تھی (إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَى وَفُرَادَى) پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں صرف اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تم تنہا یا ایک دوسرے سے مل کر خدا کے لئے قیام کرو۔
صَدَقَ اللّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں