عراقی معاشرے خاص کر جوانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر سازشیں ہو رہی ہیں، داعش کے خلاف فوجی کاروائیوں میں کامیابی ملنے کے باوجود اسکے خلاف فکری جنگ جاری ہے

عراقی معاشرے خاص کر جوانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر سازشیں ہو رہی ہیں، داعش کے خلاف فوجی کاروائیوں میں کامیابی ملنے کے باوجود اسکے خلاف فکری جنگ جاری ہے

30/5/2019




مرجع مسلمین و جہانِ تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیرحسین نجفی دام ظلہ الوارف کےفرزند اورمرکزی دفتر کے مدیرحجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نے سالہای گذشتہ کی طرح امسال بھی عراق کے مختلف صوبوں میں جاکروہاں مؤمنین کرام سے ملاقاتیں کی اور ان تک مرجع عالی قدردام ظلہ الوارف کی نصیحتیں اورپیغامات نقل فرمائے،اسی ضمن میں موصوف  نے صوبہ واسط  شہرِ احرارکا دورہ کیا اور  مرجع عالی قدر دام ظلہ  الوارف کاقائم کردہ انوارنجفیہ  فاؤنڈیشن کی جانب سے ماہ مبارک میں تقسیم ہونےوالےراشن تقسیم کئے اور وہاں جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جوانوں کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری ہے وہ یہ کہ حوزہ علمیہ نجف اشرف سے روابط اور تعلقات کومزیدمضبوط کرتے ہوئے منحرف افکار کہ جو ہمارے جوانوں کو صراط مستقیم سے بھٹکانے کی کوششیں کر رہے ہیں انکا ڈٹ کرمقابلہ کریں تاکہ ان گمراہ کن منحرف افکار کا سد باب ہو۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نےمزید بیان کیا کہ  ہمارے جوانوں نے داعشی دہشت گردوں کے مقابل  ثبات قدمی اور پختہ عزم و حوصلے کو ثابت کرتے ہوئےعظیم فتح حاصل  کی ہےاوردر حقیقت انکی فتح حقیقی اسلام محمدی کی فتح ہے ، داعش اور اسکی جیسی گمراہ کن فکر رکھنے والے ملحدین اور بے دینوں کے خلاف فوجی کاروائیوں میں کامیابی ملنے کے باوجود  فکری جنگ جاری ہے، انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ عراقی معاشرے خاص کر جوانوں کے خلاف بڑے  پیمانے پر سازشیں ہو رہی ہیں اور یہ سب کچھ انہیں صراط مستقیم اور حقیقی عراقی و عربی عادات و تقالید سے بھٹکاکرمعاشرے  میں انتشار پھیلانے کے لئے کیا جا رہا ہے  لہذا ہمارے جوانوں کو ہوشیاررہتے ہوئے ان کی سازشوں کو ناکام کرنا ہے۔
انہوں نے  فرمایا کہ ہمارے جوانوں کو اس ماہ مبارک رمضان کو غنیمت جانتےہوئےمنفی عادات کو ہمیشہ کے لئے ترک کرنے اور اپنے نفس اور معاشرے کی صحیح بنیاد ڈالنے کی پوری کوشش کرنا چاہئےتاکہ رضائے پروردگارحاصل ہواور ہماری دنیا وآخرت دونوں کامیاب ہوسکے اور اسکے لئے  محمد و آل محمد علیہم السلام  کے  بتائے  ہوئےراستے پر عمل کرنا ضروری ہے اورانکی سیرت طیبہ اور انکے اخلاق کے سانچے میں خود کو ڈھالنا لازمی ہے۔  
مؤمنین نے موصوف کی زیارت کا خیر مقدم کرتے ہوئے  مرکزی دفتر مرجع عالی قدر دام ظلہ  الوارف کی جانب سے  مسلسل ان کی احوال پرسی اور خصوصا اس ماہ مبارک رمضان میں ممکنہ امداد پر انکا شکریہ ادا کیا۔


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں