مرکزی دفتر مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف کے وفد کا لکھنؤ ہندوستان کا دورہ اور خطیب اکبر قدہ کی مجلس برسی میں شرکت

مرکزی دفتر مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف کے وفد کا لکھنؤ ہندوستان کا دورہ اور خطیب اکبر قدہ کی مجلس برسی میں شرکت

27/2/2020




 مرکزی دفتر مرجع مسلمین و جہانِ تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافط بشیر حسین نجفی دام ظلہ الوارف نجف اشرف سے فرزندان خطیب اکبر قدہ کے دعوت نامے پر خطیب اکبر علامہ مرزا محمد اطہرقدہ  و خطیب عرفان مولانا مرزا محمد اشفاق قدہ کی مجلس برسی  میں حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ باقر مرزہ صاحب حجۃ الاسلام مولانا سید غلام عسکری نجفی صاحب حجۃ الاسلام سیدضامن جعفری صاحب پر مشتمل وفد نے شرکت فرمائی۔
مذکورہ وفد نے لکھنؤ پہنچتے ہی مرحومین  کے قبور پر فاتحہ خوانی کے بعد لکھنؤ کے حسینیہ آصف الدوہ (بڑا امامباڑہ) میں منعقدہ  مجلس برسی میں شرکت کی اورحاضرین مجلس کی خدمت میں مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف  کا تحریری بیان پڑھ کر سنایا۔
فرزندان خطیب اکبر قدہ اور مؤمنین لکھنؤ کی جانب سے مرکزی دفتر کے وفد کا استقبال کیا گیا اورانکی جانب سے ارسال کئے گئے دعوت نامے کوقبول کرنے اور مجلس میں وفد ارسال کرنے  پر مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف اور مرکزی دفتر کا شکریہ ادا کیا۔
مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف کے بیان کا اردو ترجمہ۔

 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الحمد لله على هدايته لدينه وله الشكر على ما دعا إليه من سبيله مستسلمين لما أنعم وأبلى، وملتزمين بانتظار نعمته ومزيد عطفه في الآخرة والأولى، والصلاة والسلام على من تحمل العناء ووفق لإرساء قواعد دينه وعلى آله مصابيح الدجى واللعنة على شانئيهم إلى يوم الدين
‏ إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
ارشاد خداوندی ہے
بیشک جن لوگوں نے  یہ کہا کہ صرف اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر ثابت قدم رہے (جمے رہے) ان پر فرشتے حامل بشارت بنکر نازل ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں موت اور اسکے بعد پیش آنے والے حالات سے نہ ڈریں اور دنیا و اسکی نعمتوں کے ہاتھ سے چلے جانے پر غمزدہ نہ ہوں اور مزید فرماتے ہیں تمہیں اس جنت کی خوشخبری دیتے ہیں کہ جسکا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
علامہ مرزا محمد اطہر صاحب کہ جنہیں خطیب اکبر و اشہر کے عنوان سے جانا جاتا ہے انکی چوتھی برسی کے ایام ہیں، انہیں منبر حسینی اور سید الشہداء علیہ السلام کی استمراری خدمت کی توفیق حاصل ہوئی، انکی خدمتیں کسی خاص جگہ سے مخصوص نہیں تھی بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور یہ وہ نعمت ہے کہ جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ۔  ہمارا سلام ہو ان پر جس دن وہ دنیا میں آئے   اور جس دن اللہ کے حکم سے انکی وفات  ہوئی  اور  ان پراس دن بھی سلام کہ جب وہ شفاعت اہل بیت علیھم السلام کی حمایت میں اور خادم امام حسین علیہ السلام کے تاج سے مشرف ہوکر دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
اسی طرح دین و معرفت کے خطیب خدمت امام حسین علیہ السلام کے میدان کے شہسوار مرزا محمد اشفاق صاحب  کی برسی کے  بھی ایام ہیں، محترم کو اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اہل بیت علیھم السلام کی خدمت پر باقی رہنے کی توفیق حاصل ہوئی، مرحوم صرف خطیب نہیں تھے بلکہ ایک نئے افکار پیش کرنے والے شاعر بھی تھے، عراق میں مقامات  مقدسہ کی زیارت کے دنوں میں وہ  مرکزی دفتر کی زیارت کو بھی آئے تھے، خدا انکی کوششوں اور زحمتوں کو قبول کرے اورانہیں حضرت امام حسین علیہ السلام اور جناب فاطمہ زہراء علیھا السلام کی شفاعت نصیب ہو اسکے ساتھ ساتھ  انہیں ہر اس قطرے کے بدلے جنت میں محل نصیب ہو جو انکی کوششوں  سے مؤمنین کی آنکھوں سے نکلے ہیں، خدا کی شفقت اور رحمت سے یہ دور نہیں۔
ہم سب کو اس مقدس اجتماع میں چند باتوں کی طرف متوجہ رہنا چاہئے۔
۱۔  ہندوستان، بنگلادیش اور اسلامی مملکتیں اور  وہاں کی عوام انسانی مسائل پر خصوصی توجہ دینے کے لئے معروف و مشہور ہیں اور ہر ذی روح کی دیکھ بھال اور اسکے حقوق کی حفاظت کے بارے میں انکو امتیاز حاصل ہے اسلئے ضروری  ہے کہ ہر ممکن طریقے سے اس علامت اور پہچان کو باقی رکھا جائے۔
۲۔  صحیح دین کے دائرے میں ہمیں ہندوستان اور عراق کی عوام کے درمیان آپسی رشتے اور تعلقات پر نظر مرکوز رکھنا چاہئے۔
۳۔ ہمیں مطلع اور متنبہ ہونا چاہئے کہ انسانیت کی طاقت اور سالمیت خاص طور پر مسلمانوں اور بالاخص اہل بیت علیھم السلام کے شیعوں کی دین کی پابندی اور اپنے جگر کے ٹکڑوں اور اپنی اولاد کی تربیت حقیقی دین کی تعلیم کی روشنی میں اور اپنے گھر کو شریعت مقدسہ کے حدود کی پابندی میں ہی پنہا ہے۔ ساتھ ساتھ والدین کو پتہ ہونا چاہئے کہ آنے والی نسلوں کو دین کا پابند بنانا والد اور ہر اس شخص کہ جسکا تربیت میں دخل ہے قول و فعل میں دین کی پابندی کے ذریعہ ہی متحقق ہوگا اسلئے کہ اولاد اپنے والد اور سرپرستوں کی ہر چھوٹی سے چھوٹی حرکت سے متاثر ہوتی ہے۔  
۴۔ ہمارے اس شہرِ لکھنؤ میں حوزہ علمیہ کے ضمن میں وہ دینی مدارس کہ جنکی بنیاد ہمارے ماضی کے علماء کرام نے رکھی تھی اسی طرح وہ بھی مدارس کہ جنکا قیام بعد میں ہوا ہے  لازمی ہے کہ ہم سب انکی عزت و شرف کوقدیم علمی و روایتی جمال اور خوبصورتی  کے ضمن میں  باقی رکھیں اسی طرح ہمیں علمائے کرام کے ذریعہ  قائم کئے  گئے قدیم دراستی نظام  (منھج) کو بھی باقی رکھیں اور اسکی حفاظت کریں۔
۵۔ ہم سب کو چاہئے کہ ان چراغوں کو روشن رکھیں اور انکا دفاع کریں جنکی بنیاد  علمائے کرا م نے ڈالی تھی تاکہ علم و عمل کے میدان  میں ہم منور ہوتے رہیں اور ان نیک بندوں  کی کوششوں اور انکے طریقوں کو باقی رکھ سکیں۔  
۶۔ ہم سب کو معلوم ہونا چاہئے کہ عزت و کرامت علم و عمل سے ہی حاصل ہوتی ہے اور نتائج کے اعتبار سے ہم علم کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں پہلا یہ کہ جس سے جسم کی اصلاح اور زندگی کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے میں مدد حاصل کی جاتی ہے ابتدائی  اسکول سے یونیورسٹیوں تک خاص کر ہندوستان میں ہمیں بھر پور کوشش کرنا چاہئے کہ  اسمیں ترقی اور وسعت یقینی بنےاور ہمارے معاشرے میں نور انی راستے باقی رہیں اور جہالت کے اندھیروں سے دور رہیں۔  
دوسری قسم علم کی وہ ہے کہ جس سے اصلاح نفس اور سلیم سانچے میں اسکو ڈھالنے میں مدد لی جاتی ہے تاکہ وہ خیر و بھلائی، شرف عزت و کرامت کا مصدر و منبع بنے  اور یہ دینی مدارس اور حوزات علمیہ کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتا ہے اسلئے ان مدارس کے ذمہ داروں پر اختلاف مراتب کے حساب سے لازمی ہے کہ وہ  اسکو باقی رکھنے، اسکی ترقی، اسکی حفاظت کے لئے مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں تاکہ بدلتے زمانے اور ترقی کے حساب سے آنے والی نسلوں کے لئے راستے منور رہیں۔
۷۔ ہم سب پر لازمی ہے کہ شعائر حضرت امام حسین علیہ السلام پر خصوصی توجہ دیں ان کے مختلف طور و طریقوں اور انداز کے ساتھ کہ جس میں مجلسوں کے اہتمام و انعقاد، جلوس عزا کا اہتمام،غم و اندوہ کا اظہار اور ان شعائر حسینیہ کے لئے اپنی ہر قیمتی اور نایاب چیزیں قربانی کے لئے تیار رکھنا شامل ہے اس لئے کہ  یہ حسینی شعائر دین اسلام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔  حضرت امام حسین علیہ السلام نے دین کی خاطر اپنی قربانی پیش کی تھی اور یہ بات   چاہے  جس نے بھی کہی ہو ثابت  ہو چکی  ہے  کہ اسلام کی ابتداء محمدی ہے اور اسکی بقا و سلامتی حسینی ہے۔
پوری دنیا پر واضح رہنا چاہئے کہ یہ شعائر حسینی ہماری آنکھوں کا نور اور ہمارے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ جب تک حضرت امام حسین علیہ السلام  کے وارث حضرت امام زمانہ عج  کے سپرد ان شعائر حسینی کو نہیں کر دیتے اس وقت تک یہ رکنے والی نہیں ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے فدائیوں کے تاج سے مشرف کئے جائیں گے اور بالنتیجہ حضرت امام حسین علیہ السلام اور انکے نانا رسول اللہ ؐ اور جناب فاطمہ زہرا علیھا السلام کی شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے۔
خدا سے اسکی امید اور آرزو ہے کہ حوزہ علمیہ لکھنؤ  اپنے پرانے نشاط اور دور کی طرف پلٹے اور وہ دن جلدی آئے اور ظاہر ہے خدا کو بھی یہ پیارا ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ  
بشیر حسین النجفی
نجف اشرف عراق