قول سے پہلےعمل سے ہم اس عظیم دین اسلام کے پابند رہیں

قول سے پہلےعمل سے ہم اس عظیم دین اسلام کے پابند رہیں



16/11/2020


مرجع مسلمین وجہانِ تشیّع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیرحسین نجفی دام ظلہ الوارف کےفرزند اورمرکزی دفترکے مدیرحجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نےحشد شعبی کی جانب سےنجف اشرف میں منعقدہ پہلی تبلیغی کانفرنس میں شرکت فرمائی اور مذکورہ کانفرنس سےخطاب بھی کیا۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نےحاضرین کوخطاب کرتےہوئےعلماء کرام کی خدمات کو سراہتے ہوئےخاص کر میدان جنگ میں مجاہدوں کی عقائدی واخلاقی رہنمائی پرانہیں مبارکباد پیش کی۔
 انہوں نےاپنےخطاب میں فرمایا کہ خداکی یہ نعمت ہےکہ  انسان کو دین ومذہب کی تبلیغ کا شرف نصیب ہو جبکہ یہ  انبیاء ورسولوں علیھم السلام کا وظیفہ ہے لیکن اللہ نےبشریت کی خدمت کے لئے آپ کو منتخب کیا خاص کران بہادروں کی خدمت کےلئے جو الہی اوامر کی ادائیگی میں اپنی  ہتھیلیوں  پر اپنی جان لئے دشمنوں کے مقابلے کے لئے میدان جہاد میں حاضر ہوئے اورانہوں نےعراق کہ جو ائمہ طاھرین علیھم السلام کا عراق ہے اسے  فاسدوں سے پاک کیا، ہم نے آپکی بہادری اور قربانیوں کا مشاہدہ کیا ہےمیدان جہاد کے شہیدوں آپ پرسلام   ،مقامات مقدسہ،عتبات عالیات اوروطن کےدفاع میں زخم سہنے  والے بہادرو آپ پر بھی سلام۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نے اپنے خطاب میں ان علماءکرام کی خدمات کو بھی سراہا کوکہ میدان جہاد میں مجاہدین کےشانہ بشانہ رہے بلکہ انکی حوصلہ افزائی اور انکی قیادت وسربراہی کرتےرہےاورعظیم قربانیاں پیش کیں،اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اب تک اپنی شرعی  ذمہ  داریاں ادا کر رہے ہیں انہیں علماء ابرار میں سے بہت سےعزیزوں کو ہم نےکھویا ہےجنکاگذر جانا ہم پر شاق ہےلیکن انہوں نےجہاد بالسیف اور جہاد باللسان کے شہیدوں کا مرتبہ پایا ہےاور اولیاء و صالحین کےہمرکاب ہوئےان پاک طینتوں کو یہ شرف عظیم مبارک ہوہماری یہی دعا ہے کہ خدا انکی قربانیوں اورانکی  خدمتوں کو قبول کرے اورانہیں دین و مذہب اور وطن کی  خدمت کی مزید توفیق عنایت  ہو اسلئے کہ ہم  مشکل اورحساس دور کا سامنا کررہے ہیں خاص کر دینی  معاملات میں۔
حجۃالاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نےاپنے خطاب میں مزید فرمایاجیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نبی اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ  نےبعثت مبارک سے رحلت تک تقریبا ۲۳ سال میں دین و مذہب  کی جڑوں کو اپنےمبارک اعمال واقوال کے ذریعہ اتنا مستحکم کردیا کہ اسلام پوری دنیامیں پھیل  گیا اورجب خدائےعز و جل   نےان سے فرمادیا کہ( وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى، اور عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اس قدرعطا کردے گا کہ خوش ہوجاؤ) اوراس میں خدا کی جانب  سے جو دیئے جانے کی بات ہے وہ صرف آخرت سے مخصوص نہیں ہےبلکہ ان کے جگرگوشہ حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کےہاتھوں پوری  دنیا میں انکی شریعت مقدسہ کا نفاذ ہےاور اس الہی وعدے  پر مکمل اطمینان تھا پھر انہوں ؐ نےملک الموت کوروح قبض  کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اوراستقبال الہی بھی ان لفظوںمیں کیا گیا کہ(يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي، اےنفس مطمئن اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تواس سے راضی ہے اوروہ تجھ سےراضی ہے پھر میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا)۔
خدا سے یہی دعا ہےکہ ہم سب کو رسول اللہ ؐ کے بتائے ہوئے   راستےسےمتمسک رکھےاور قول سے پہلے عمل  سے ہم اس عظیم دین کے پابند رہیں تاکہ جنت میں رسول اللہ ؐ اورانکے اہلبیت علیھم السلام  کا جوارنصیب  ہو بلا شک و شبہ خدا ہی  دعاؤں کو مستجاب کرنے والا ہے۔



ٹیلیگرام کے نجفی چینل کو جوائن کریں


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں