حجۃ الاسلام شیخ_علی_نجفی) دام عزہ( کا اسلامی_ اتحاد/ بین الاقوامی اسمبلی برای تقریب_بین_المذاہب کی 36 ویں کانفرنس سے خطاب

حجۃ الاسلام شیخ_علی_نجفی) دام عزہ( کا اسلامی_ اتحاد/ بین الاقوامی اسمبلی برای تقریب_بین_المذاہب کی 36 ویں کانفرنس سے خطاب



14/10/2022



 •دنیا میں گمراہوں  ظالموں  اورسرکشوں نےاسلام پر ضربیں لگانے پر  اتفاق کر لیا ہے  لیکن   وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو جاری و باقی رکھنے اور ناقابل تسخیر ہونے کی ضمانت دی ہے

• اسلام کو در پیش  سب سے نمایاں_خطرہ  فتنہ  کی آگ ہے  جسے کچھ جاہل لوگ کہ جنہیں مسلمان مفکرین اور عالم و اسکالر سمجھا جانے لگا ہے    ہَوا دے رہے ہیں، تمام ضروری  ضروریات  کے ساتھ خفیہ ہاتھوں سے انکی پشت پناہی  کی جارہی ہے  

• صلیبیوں کی قیادت میں عالمی استکبار  ایک مدت میں دنیا کے بیشتر ممالک پر قابض ہو گیا اور انہوں نے اپنی پوری قوت و طاقت  سے اسلام کو مٹانے کی کوشش کی

•دوسروں کے پاس جو کچھ ہے اس کے لیے مسلسل فرمانبرداری اور تابعداری  اسلام کی عظمت کے لائق نہیں ہے

مرجع مسلمین و جہانِ تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ  الحاج حافظ بشیر_ حسین_ نجفی دام ظلہ الوارف  کے فرزند اور مرکزی  دفتر  کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ علی  نجفی  دام عزہ  نے  اسلامی اتحاد/ بین الاقوامی اسمبلی برای تقریب بین المذاہب   کی 36 ویں کانفرنس بعنوان (اسلامی اتحاد - امن اور اسلامی دنیا میں تقسیم اور تنازعات سے اجتناب (عملی طریقہ کار) سے خطاب کرتے  ہوئے  مرکزی دفتر  نجف اشرف  کے بیان  کی ترجمانی  فرمائی  جسکا انعقاد آن لائن کیا گیا۔


انہوں  نے کانفرنس  سے خطاب  کرتے  ہوئے  فرمایا کہ  مسلمان آج  بھی  کفر و گمراہی   کے ٹولے  سے شدید حملوں کا سامنا کر رہےہیں  اور  انہوں نے  اسلام پر مہلک ضربیں لگانے پر  اتفاق کر لیا ہے  لیکن   وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دین کو جاری و باقی رکھنے اور ناقابل تسخیر ہونے کی ضمانت دی ہے۔


انہوں  نے  مزید فرمایا  کہ  اسلام کو در پیش  سب سے نمایاں خطرہ فتنہ  کی آگ ہے  جسے کچھ جاہل لوگ کہ جنہیں مسلمان مفکرین اور عالم و اسکالر سمجھا جانے لگا ہے    ہَوا دے رہے ہیں، تمام ضروری  ضروریات  کے ساتھ خفیہ ہاتھوں سے انکی پشت پناہی  کی جارہی ہے۔   انہوں  نے مزید  کہا کہ   اتحاد اورمواقف میں یکسانیت  توحید اور نبی ؐ کی نبوت پر اعتقاد کے پرچم تَلے حالات کی طرف سے مسلط کردہ ضرورت  نہیں  ہے   جیسا کہ کچھ  لوگ تصور کرتے  ہیں  بلکہ یہ ہر مخلص مسلمان کا ہدف  ہے جنکے دل ایمان سے لبریز  ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے   اسلامی ملکوں  کو وافر قدرتی وفطرتی نعمتوں سے نوازا  ہے   اور ہمارے  پاس   امتیازی  حیثیت والے عقول کی  کوئی  کمی  نہیں  ہے  ،ہمارے ہاتھ ہر قسم کی ایجادات کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے اسباب سے عاجز بھی نہیں ہےاور نہ ہی اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں جس تک انسانی ذہن پہنچ چکے ہیں ہم عاجز ہیں۔

 مذکورہ کانفرنس  میں خطاب کے عربی متن کا ترجمہ درج ذیل ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

الحمد لله على هدايته لدينه، والشكر على ما دعا إليه من سبيله، والصلاة والسلام على خير من أرسله بشيراً ونذيراً بين يدي الساعة محمد المصطفى وعلى آله الذين اتبعوه بإحسان إلى يوم الدين، واللعنة على أعدائهم أجمعين.

ارشاد خداوندی ہے: (وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَتَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إذ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً اللہ کی ر سّی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کردی تو تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے )

(وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ).

اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو کہ کمزور پڑ جاؤ اور تمہاری آن بان ختم ہوجائے اور صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيم

آفتاب نبوت کے غروب ہونے اور نزول وحی کے منقطع  ہونے کے بعد سے اب تک  مسلمانوں پر کفر و گمراہی کے گروہوں کی طرف سے اور کبھی  ادھر کبھی ادھر سے شدید حملے کیے جا رہے ہیں اگرچہ یہ بعض اوقات کمزور پڑ جاتے ہیں اور ان کے فتنہ و فتور  سست پڑ جاتے ہیں لیکن یہ دوبارہ تمام تاریخی حالات  کے پس منظرمیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط صورت میں لوٹ آتے ہیں ۔

عالمی استکبار صلیبی عنوان کے تحت  دنیا کے بیشتر ممالک کو - ایک مدت میں - اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہوگیا اور وہ اپنی پوری قوت سے اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے لگے تاہم اسلام کا چراغ  ان تمام سازشوں کے باوجود جلتا رہا جو اسے کچلنے کے لیے کی گئی تھیں۔

عالمی استکبار اور صیہونیت کی ہٹ دھرمی کے باوجود اسلام کو طلوع آفتاب سے لے کر اب تک جس سب سے خطرناک چیز کا سامنا ہے وہ منافقت کی تحریک ہے اور یہ تحریک عظیم ترین نبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے دور میں ظاہرہوئی، جیسا کہ خدا کی کتاب قران مجید بھی  اس کی گواہی دیتی ہے۔  اس تحریک کا خطرہ زیادہ اس لئے بھی ہے کہ اس کےجھنڈا بردار اسلام کے نام پر اسلام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔  اور وہ بھڑکیلے اور بناوٹی نعروں کے تحت سادہ لوح لوگوں کے سامنے خود کو اسلام کی مخلصانہ دعوت کے مالک کے طور پر پیش کرتے ہیں جیسا کہ وہی اسکے نگراں اور محافظ ہیں ۔ اس تحریک کے خطرے کی وجہ سے ہی  اللہ نے اسکو فروغ دینے والوں پر اسلام کے دوسرے دشمنوں کی سزا سے زیادہ سخت سزا  معین کر دی ہے ارشاد خداوندی  ہے (إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ) بے شک منافقین جہّنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔

آج کی  ہماری دنیا میں گمراہی اور ظلم و ستم  میں ڈوبے ہوئے لوگ اسلام کو ضربیں لگانے پر متفق ہو چکے ہیں وہ سمجھتے ہیں اور انہیں گمان ہے کہ وہ اسے ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ خدا نے اس دین کے تسلسل اور ناقابل تسخیر ہونے کی ضمانت دی ہے یہاں تک کہ وہ اپنا وعدہ پورا کر دے اور اسے تمام ادیان پر غالب نہ کر دے خواہ کافروں کو اس سے نفرت ہی کیوں نہ ہو۔

 اسلام کو درپیش سب سے نمایاں خطرہ فتنہ کی آگ ہے جسے کچھ جاہل لوگ جو کہ مسلمان مفکرین اور اسکالر سمجھے جاتے ہیں ہَوا دیتے ہیں ، تمام ضروری ضروریات کے ساتھ  خفیہ ہاتھ  انکی پشت پناہی کرتے ہیں اور وہ  مسلمانوں کی صفوں میں گھسنے والے فرقوں کو مضبوط کرنے کا کام کرتے ہیں۔

ان کی کوششیں صرف فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے، تفرقہ پھیلانے اور مسلمانوں میں فساد کی آگ بھڑکانے تک محدود ہیں۔ وہ مسلمانوں پر براہ راست الزامات، بہتان اور جھوٹ بولنے سے نہیں ہچکچاتے۔  اور بھولے ہوئے  ہیں  کہ مسلمان کو کافر بتانے، ان پر سب و شتم کی ممانعت وارد ہوئی  ہے ، گویا انہوں نے وہ کچھ نہیں پڑھا جو بعض صحیحوں میں مروی ہے، جیسے کہ صحیح مسلم میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: ( اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اور یہ کہ محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا، بیت اللہ کا حج کرنا اور ماہ رمضان میں روزہ رکھنا) یہ حدیث اسی طرح کے الفاظ کے ساتھ  تھوڑا اختلاف کے ساتھ مسلمانوں کے مصادر  میں بھی ہے، جیسے: الکافی الکلینی.. اور دیگر۔

 اس مبارک اجتماع کے مشارکین  پر واضح رہے کہ اتحاد اورمواقف میں یکسانیت  توحید اور نبی ؐ کی نبوت پر اعتقاد کے پرچم تَلے حالات کی طرف سے مسلط کردہ ضرورت  نہیں  ہے   جیسا کہ کچھ  لوگ تصور کرتے  ہیں  بلکہ یہ ہر مخلص مسلمان کا ہدف  ہے جنکے دل ایمان سے لبریز  ہیں ، اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے   اسلامی ملکوں  کو وافر قدرتی وفطرتی نعمتوں سے نوازا  ہے   اور ہمارے  پاس  نہ  تو امتیازی  حیثیت والے عقول کی  کوئی  کمی    ہے  ،ہمارے ہاتھ ہر قسم کی ایجادات کے لیے راہ ہموار کرنے کے لیے اسباب سے عاجز بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں جس تک انسانی ذہن پہنچ چکے ہیں ہم عاجز ہیں۔

خدا نے اپنے اس ارشاد کے ذریعہ ہمیں کوشش کرنے کا حکم دیا ہے  (وَقُلِ اعْمَلُواْ فَسَيَرَى اللّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ وَسَتُرَدُّونَ إلى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ، اور پیغمبرؐ کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کواللہ ً رسولؐ اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں اور عنقریب تم اس خدائے عالم الغیب والشہادۃ کی طرف پلٹا دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں تمہارے اعمال سے باخبر کرے گا  ) خدا  نے ہمارے لئے فائدہ اٹھانے کے راستے ہموار کئے ہیں تاکہ ہم ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں، اور اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم کائنات  سے صحیح طریقوں سے فائدہ اٹھائیں۔  ارشاد خداوندی  ہے (وَسَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً مِّنْهُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لَّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ، اور اسی نے تمہارے لئے زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو مسّخر کردیا ہے بیشک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے نشانیاں پائی جاتی ہیں ) ۔

دوسروں کے پاس جو کچھ ہے اس کے لیے مسلسل فرمانبرداری اور تابعداری  اسلام کی عظمت کے لائق نہیں ہے  جو شخص خدا کی اطاعت کا پابند ہے اور جس چیز کی ضرورت ہے اس کے لئے کوشش کرتا ہے خدا اسے عزت دیتا ہے۔

 ارشاد الٰہی ہے   ( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے  ) ۔

مسلمانوں کے درمیان اتفاق اور ہم آہنگی ہر حال میں ضروری ہے، ہم سب کو اس راہ میں بغیر کسی روک ٹوک  اور ہچکچاہٹ کے کوشش کرنی چاہیے۔ 

اپنے مسلمان بھائیوں کے تئیں ہماری ذمہ داری کے مقام سے، ہم دل و جان سے اس تقریب میں ان کے ساتھ شامل ہیں۔ اگرچہ ہم نجف میں رہ کر ہمارے سپرد کردہ فرائض کو انجام دے رہے ہیں، اس کے باوجود  بھی ہم اسلامی ممالک کی پریشانیوں میں شریک ہیں جن آزمائشوں اور فتنوں سے وہ  گزر رہےہیں  جیسا کہ افغانستان میں مسلمانوں کے خلاف تکفیریوں کے حملے۔

مجھے اللہ تعالیٰ سے یہی  امید ہے کہ وہ اجتماع کو اس باوقار مقصد تک پہنچنے کی توفیق دے جس کے لیے جمع ہوئے ہیں اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اسلام کے لیےاپنی ذمہ داریوں  کی ادائیگی  کر سکیں۔

اپنی بات کو یہیں پر ختم کرتا ہوں اور اپنے لئے اور سب کے لئے  مغفرت کی دعا کرتا ہوں ۔

والسلام عليكم ورحمة الله..



ٹیلیگرام کے نجفی چینل کو جوائن کریں


بھیجیں
پرنٹ لیں
محفوظ کریں