دشمنان اہلبیت ؑ اور ان کے قاتلوں کی مدح و ثنا نئی نسل کی صحیح تربیت اور انکی نشو نما میں بہت بڑی رکاوٹ ہے

دشمنان اہلبیت ؑ اور ان کے قاتلوں کی مدح و ثنا نئی نسل کی صحیح تربیت اور انکی نشو نما میں بہت بڑی رکاوٹ ہے

1/5/2022




مرجع مسلمین و جہانِ تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی  دام ظلہ الوارف نے  مرکزی دفتر  نجف اشرف میں ماہ مبارک رمضان کی مبارک راتوں میں حسب دستور قدیم  امسال بھی  زیارت  کو آئے  مختلف وفود کا خیر مقدم فرمایا اسی ضمن میں  عراق اور بیرون عراق  اور بالاخص نجف اشرف کے خانوادہ آل مرزہ و آل صبیع   کے  وفد سے مخاطب ہوتے ہو ئے اپنی پدرانہ نصیحتوں   اور ضروری ارشادات میں فرمایا کہ مومنین کو اصلاح نفس کو یقینی  بنا کر رضائے  الہی  کے حصو ل کا راستہ  ہموار کرنا چاہئے   اور علم و عمل  سے بہر صورت  خود کو اور اپنی اولاد  کو متمسک رکھیں  ۔
مرجع عالیقدر دام ظلہ الوارف نے  عراقی زائرین سے  مخاطب  ہوتے  ہوئے  فرمایا کہ  عراق کی تعمیر نو میں جو سب سے پہلا قدم تھا اور جسے لازمی  طور  پر نافذ کیا جانا چاہئے  تھا وہ  درسی  نظام میں اصلاح کو یقینی  بنایا جانا تھا اور ظالم صدامی  ثقافت کو ختم کرنا تھا  لیکن افسوس کے ساتھ ابھی تک یہ  یقینی نہیں ہو پایا  ہے اور یہ بات تو سب پر واضح  ہے  کہ  عراق نے طویل مدت صدامی افکار  کے تحت  گذارا ہے  اور اس کے آثار  آج تک دشمنان اہلبیت ؑ  اور ان کے قاتلوں کی مدح و ثنا کے طور پر   درسی  نظام میں موجود  ہے  اور نئی نسل کی صحیح  تربیت اور انکی نشو نما میں یہ بہت  بڑی رکاوٹ  ہے  ۔       
انہوں نے  حاضرین  کو متوجہ  کرتے  ہوئے  فرمایا کہ  کیا ایسا نہیں ہے کہ  عراق میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اسلامی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب کہ شیعہ تاریخی اور نظریاتی  و عقائدی غلطیوں سے بھرا نصاب پڑھنے پر مجبور ہیں۔