پوری دنیا میں شیعوں کی اجتماعی ،علمی ، فکری، اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں

پوری دنیا میں شیعوں کی اجتماعی ،علمی ، فکری، اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں

28/7/2020




پوری دنیا میں شیعوں کی اجتماعی ،علمی ، فکری، اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں

مرکزی دفترمرجع مسلمین و جہان تشیع  حضرت آیت اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی (دام ظلہ الوارف) نجف اشرف عراق نےحجۃ الاسلام والمسلمین علامہ طالب جوہری طاب ثراہ کے ایصال ثواب کی خاطر کراچی پاکستان میں منعقدہ مجلس چہلم کےمشارکین اور مومنین کے نام خصوصی پیغام ارسال فرمایا جسے مجلس میں حجۃ الاسلام والمسلمین  علامہ سید رضی جعفر نقوی دام عزہ نے پڑھ کرسنایا  ۔

(مرجع عالی قدر دام ظلہ الوارف  کا  مکمل  تحریری بیان)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَی هِدَایَتِہِ لِدِیْنِهِ وَ الصَّلَوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَی اَشْرَفِ الْمَبْعُوْثِیْنِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَ اللهِ وَ عَلَی آلِهِ السَادَاتِ الْمَیَامِیْن وَاللَّعْنَةُ عَلَی اَعْدَائِهِمْ اَجْمَعِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔ اما بعد!
قال اللہ سبحانہ: اِنۡ تَنۡصُرُوا اللہَ یَنۡصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ (صدق اللہ العلی العظیم)
خداوند عالم نے اس آیت مبارکہ میں وعدہ فرمایا ہے کہ جو کوئی خدا کی مدد کرے گا تو خدا اس کی مدد کرے گا اور اس کے نفس کو اور اس کی حرکات اور جسم کو دین پر ثابت فرمائے گا۔
ہم آج خطیب منبر حسینی واعظ محترم حجۃ الاسلام علامہ طالب جوہری (قدس سرہ) کی وفات حسرت آیات اور ان کی روح پُر مفتوح کے ایصال ثواب کی خاطر جمع ہوئے ہیں ۔
مرحوم نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے، اس کی نشرواشاعت، دینی تربیت  اورحضرت امام حسین علیہ السلام اور بالعموم اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو لوگوں پر واضح اور روشن کرنے میں گزاری اس طرح مرحوم نے ساری زندگی نصرت خدا میں صرف کی کیونکہ دین کی خدمت اللہ کی مدد اور نصرت ہے۔
اگرچہ ہم آج ان کے وجود ظاہری کو دیکھنے سے محروم ہیں لیکن ان کی مجالس، وعظ و نصیحت اور فضائل و مصائب اہل بیت علیہم السلام سے بھر پور آوازیں اب بھی فضا میں گونج رہی ہیں اور ہمارے کان اور دل کی دھڑکن ان کو سن رہے ہیں، خدا ان کے درجات کو بلند کرے اور ان کی زحمتوں کو قبول کرے۔
میرے بھائیو اور بیٹو!  ہماری معتبر کتابوں میں معتبر روایات سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ لوگ  کہ جنہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی کسی بھی طرح خدمت کی ہے اور کرتے ہیں اگرچہ حضرت امام حسین علیہ السلام قیامت کے دن اپنے تمام محبین کے لئے شفاعت فرمائیں گے لیکن ان لوگوں کے لئے جنہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی مصیبت کی نشرواشاعت اور مولاؑ کی مصیبت کو دنیا میں باقی رکھنے کے لئے کوشیش کی ان کو خصوصی شفاعت نصیب ہو گی اور ان کو خدا اپنی نعمتوں سے نوازے گا اور ان کو بخشے گا اور فرشتے ان کو خدا کی طرف سےیہ خوشخبری دیں گے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے آپ لوگوں کی شفاعت کی ہے اور آپ لوگ جنت میں جائیں گے۔
لیکن جنت میں جانے سے قبل ان سے خدا کی طرف سے سوال کیا جائے گا کہ تم جنت میں جانے سے پہلے کیا یہ شوق رکھتے ہو کہ تمہیں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت نصیب ہو اور تم ان علیہ السلام کے چہرہ پُر نور کی زیارت کرو؟ تو یہ لوگ کہیں گےکہ ہم حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس پڑھتے اور سنتے تھے، ماتم کرتے تھے اور ان کی قبر کی زیارت کرتے تھے  ان کا غم مناتے تھے لیکن ہم نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو نہیں دیکھا تھا  ہم اس کی تمنا رکھتے ہیں تو خدا اپنے پیارے حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہے گا کہ اپنے خدمت گزاروں کو اپنی زیارت کروائیں  تو مولاؑ جنت کو چھوڑ کر اپنے خدمت گزاروں کے سامنے آئیں گے اور مولاؑ کے شیعہ امام علیہ السلام کو دیکھ کر روئیں گے اور ان علیہ السلام کی زیارت سے سیر نہیں ہوں گے اور جنت میں مؤمنین کی خدمت کرنے والے فرشتے خادمانِ  حضرت امام حسین علیہ السلام سے کہیں گے کہ جنت کو آپ لوگوں کے لئے سجا دیا گیا ہے اور غلمان جنت جام لئے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے تم پیاسے ہو آکر پانی پیو تو خادمانِ حضرت امام حسین علیہ السلام کہیں گے کہ امامؑ کے چہرہ پُر نور کی زیارت نے جنت کو بُھلا دیا ہے ۔
پھر جنت کے فرشتے نہایت احترام کے ساتھ جیسے کوئی  انسان کسی مہمان کو گھر میں داخل کرتا ہے اس طرح جنت کی طرف کھینچتے ہوئے ان کے مقام تک لے جائیں گے اور اسی کی طرف خداوندعالم نے قرآن مجید میں فرمایا ہے (وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا )یعنی مومنوں اور متقیوں (امامؑ کے نوکروں) کو جنت کی طرف کھینچا جائے گا ورنہ جس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے وہ جنت کی طرف جلدی سے جانے کو تیار ہو گااور اسے کھینچنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ان شاء اللہ علامہ طالب  جوہری طاب ثراہ  بھی  باقی خطباء کے ساتھ اس مجمع میں ہوں گے اور یہ سب چیزیں ہم سب کے لئے باعث رحمت ہیں، لیکن واضح ہونا چاہیے کہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے: اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ
خدا ہر نیکی کو ہر عبادت کو صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے۔
میرے بھائیو اور بیٹو! چند باتوں کی طرف آپ کی توجہ کو مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہوں۔
1:۔ ہم سب کا فریضہ ہے کہ ہم اپنے عقائد،اپنی شناخت کو بہرِ صورت محفوظ اور باقی رکھیں اور ولایت اہل بیت علیہم السلام اور انؑ کے دشمنوں سے حقیقی بیزاری اور عزاداری حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کی مصیبت کو زندہ اور باقی رکھنا ہمارا شرعی فریضہ ہے اور اسے اپنی جان، عزت، اپنی بیوی اور اپنے والدین کی جان و عزت سے زیادہ عزیز سمجھیں ۔
2:۔ میرے بھائیو اور بیٹو! وہ علوم کہ جنہیں اسلام نے حلال قرار دیا ہے اس میں قدم بڑھاؤ علم آپ کا کھویا ہوا خزانہ ہے اسے دوبارہ حاصل کر کے خود کو اور اپنی پوری قوم کو مزید عزت بخشو۔
3:۔ آپ سب کو پتہ ہے کہ اہلبیت علیہم السلام کی عزاداری اور خصوصاً حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری کو باقی رکھنا ہم سب کا فریضہ ہے اور ہم سب اس کام کے لئے متحد رہیں اور کسی طاقت کے خوف سے اس عزاداری میں کوئی کمی نہ ہونے دیں اور جس طرح ہمارے دشمن ایک ہیں اور جب بھی ہمارا کوئی مسئلہ آتا ہے وہ متحد ہو جاتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ ہم ایک کیوں نہیں ہیں؟
جب اہل بیت علیہم السلام کا دشمن، دشمنی اہل بیت و عزاداری پر ایک ہو سکتا ہے تو کیا ہم اہل بیت علیہم السلام اور عزاداری پر جان نچھاور کرنے کا جذبہ رکھنے والے اہل بیت علیہم السلام اور عزاداری امام حسین علیہ السلام کے پرچم تلے ایک کیوں نہیں ہو سکتے؟
میرے بھائیو اور بیٹو! میں آپ سب کو بنام اہلبیت علیہم السلام بنام خونِ حسین علیہ السلام اتحاد و اتفاق کی دعوت دیتا ہوں انما المؤمنون اخوۃ۔ مؤمنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی  ہیں اور بھائیوں میں اختلافات  ہوتے ہیں لیکن پھر آپسی مشورے اور عقلمندی سے عمل کرتے ہوئے وہ اختلافات ختم بھی ہو جاتے ہیں اور کوئی بھی بھائی اپنے دوسرے بھائی کو کافر و مشرک جیسے الفاظ سے یاد نہیں کرتا؟
اس لیے ایک دوسرے سے مفاہمت اور عقل و منطق کو غالب کریں اور متحد رہیں خدا ہم سب کا مدد گار ہیں ۔
4:۔شیعوں کی خدمت میرے لیے باعث شرف ہے اور میری آرزو اور دعا بھی ہے کہ مجھے بروز حشر حوزات علمیہ اور شیعوں کا خادم کہہ کر پکارا جائے میں اپنی قوم کو اس منزل تک لے جانے کی حتی الامکان پوری کوشش کر رہا ہوں جس کی یہ مستحق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ سب سے بھی یہ امید کرتا ہوں کہ پوری دنیا میں شیعوں کی اجتماعی ،علمی ، فکری، اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لیے بھر پور کوشش کریں اور میں حتی المقدور ہر اعتبار سے آپ کے ساتھ ہوں ۔والسلام