اہل بیت علیہم السلام سے ہمارے تمسک اور ان سے لگاؤ اور شعائر حسینیہ کے احیاء اور اس کو باقی رکھنے میں ہی ہماری طاقت و قوت ہے ۔

اہل بیت علیہم السلام سے ہمارے تمسک اور ان سے لگاؤ اور شعائر حسینیہ کے احیاء اور اس کو باقی رکھنے میں ہی ہماری طاقت و قوت ہے ۔

4/9/2021




مرجع  مسلمین و جہانِ تشیع حضرت  آیۃ اللہ  العظمیٰ  الحاج حافظ  بشیر حسین نجفی  دام ظلہ  الوارف    کے  فرزند اور مرکزی  دفتر کے  مدیر حجۃ الاسلام  شیخ علی  نجفی  دام عزہ  نے  ایام  عزا  میں  مختلف  صوبوں  میں  مختلف مقامات  پر  مجالس عزا میں  شرکت  فرمائی اور  شعائر حسینیہ  کے  احیاء  میں انکی  کوششوں  کو سراہا اور حاضرین  سے  اپنے  خطاب  میں  مرجع عالی قدر  دام ظلہ الوارف کی  دعائیں اور نصیحتیں  نقل فرمائیں  ۔
 اسی ضمن میں صوبہ واسط کے نعمانیہ میں انجمنوں کے اجتماع میں شرکت فرمائی اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ شعائر حسینیہ بڑی ہی اہمیت کی حامل ہے یہ شعائر حسینیہ شعائر دینیہ کا ایسا حصہ ہے کہ جو کبھی جدا نہیں ہو سکتا اور اسی شعائر حسینیہ  میں دین و مذہب اور معاشرے کی تقویت ہے ۔
انہوں نے فرمایا کہ ہماری قوت و طاقت ہمارے اہل بیت علیہم السلام سے تمسک اور ان سے لگاؤ اور شعائر حسینیہ سے تمسک اور اس کے احیاء میں ہے ۔یہی شعائر حسینیہ ہے کہ جس سے سر کشوں ظالم و جابر حکومتوں کی کرسیاں لرزتی ہیں اسی شعائر حسینیہ سے تمسک نے ہماری قو م میں فدا کاری شجاع اور شہادت کے متمنی نسل پیدا کی ہے کہ جنہوں نے دین اور اسلام کے ارکان کے دفاع میں جام شہادت کو بڑی ہی دلیری اور رضا مندی سے نوش کیا۔
حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی دام عزہ نے مزید فرمایا کہ ہمارا تعلق شعائر حسینیہ اور منبر حسینی سے جتنا مضبوط ہو گا ہم اتنا ہی دشمنوں کی سازشوں کے مقابل مضبوط ہوں گے جو ہم سے خاص کر ہماری جوان نسل سے اس کی شناخت و پہچان ،افکار ،عقیدے سے فارغ کر کے ایک نام کی قوم کی تشکیل کی ناکام کوششوں میں لگے ہیں جو شعائر حسینیہ اور منبر حسینی سے جتنا دور ہیں اتنا ہی جلدی وہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار بنتے ہیں ۔پوری دنیا پر واضح رہے کہ یہ ساری سازشیں ختم ہو جائیں گی ان سازشوں کی قسمت  ذلت و رسوائی ہے اس لیے کہ یہ شعائر حسینیہ سے ٹکر لینے کی جرأت کر رہے ہیں اور اب تک جس نے بھی شعائر حسینیہ سے ٹکر لینے کی کوشش کی تاریخ گواہ ہے اسے ذلت و رسوائی ہی ہاتھ لگی اس کے برعکس یہی شعائر حسینیہ کل بھی تھی اور ان شاء کل بھی رہے گی اس لیے کہ شعائر حسینیہ امت مسلمہ ،شریف معاشرے  مومن اور عدل و انصاف و حق و حقانیت کو پسند کرنے والوں کے ضمیر میں زندہ ہے ۔